8 اپریل 2013 - 19:30
کيميائي اسلحے پر پابندي کي کانفرنس

کيميائي ہتھياروں کے استعمال پر پابندي کے کنونشن پر نظر ثاني کانفرنس پير سے ہيگ ميں شروع ہوگئي ہے اور دو ہفتے تک جاري رہے گي -

ابنا: اس کانفرنس ميں گزشتہ پانچ سال کے دوران کيميائي ہتھياروں کے استعمال پر پابندي کے کنونشن پر عمل درآمد کے جائزے کے ساتھ ہي آئندہ پانچ سال کے لئے نقشہ راہ کے تعين کے بارے ميں بھي غوروفکر اور تبادلہ خيال کيا جائے گا - کيميائي ہتھياروں پر پابندي کے کنونشن پر نظرثاني کي کانفرنس کے آغاز کے موقع پر اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے جو اس کانفرنس کو خطاب کرنے ہالينڈ گئے ہوئے ہيں کيمائي ہتھياروں سے زخمي اور متاثر ہونےوالے ايرانيوں سے متعلق ايک نمائش کا بھي معائنہ کيابان کي مون نے اس نمائش کو ديکھنے کے بعد کہا کہ اس نمائش ميں جو مناظر دکھائے گئےہيں اس کے پيش نظر اقوام متحدہ کا عزم کيميائي ہتھياروں کي مکمل نابودي کو يقيني بنانے کے لئے اور زيادہ مستحکم ہوگيا ہے –اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل نے اسي طرح کيميائي ہتھياروں کا نشانہ بننےوالوں کي ياد ميں بنائي گئي ياد گار  کا بھي معائنہ کيا جو گذشتہ سال اسلامي جمہوريہ ايران نے اقوام متحدہ کے کيميائي ہتھياروں کي پابندي سے متعلق ادارے کو پيش کيا تھا –    ہالينڈ ميں ايران کي طرف سے منعقد کي گئي نمائش ، ايران پر مسلط کي گئي عراق کي بعثي حکومت کے جنگ کے دوران مغرب کي چار سو پچپن کمپنيوں کے ذريعے صدام حکومت کو کيميائي ہتھياروں کو بڑے پيمانے فراہمي اور پھر ان ہتھياروں کاايران کے شہروں اور رہائشي علاقوں پر استعمال کيميائي ہتھياروں کا نشانہ بننے والوں اور اس کي تلخ حقيقت کا ايک چھوٹا سانمونہ ہے - ايران کے مغربي شہر سردشت ميں عام شہريوں پر عراق کي بعثي حکومت کے ذريعے کيميائي ہتھياروں کي بمباري اور اسي طرح عراق کے کردستان کے علاقے کے شہر حلبچہ پر کيميائي ہتھياروں کا استعمال صدام کي حکومت کے غيرانساني جرائم کا ايک معمولي نمونہ ہے - ايران پر مسلط کي گئي جنگ کے دوران صدام کے کيميائي حملے ميں ايک لاکھ  سے زائد عام ايراني شہري شہيد اور زخمي ہوگئے تھے - زخميوں ميں بہت سے افراد ابھي بھي اذيت ناک درد و رنج ميں مبتلا ہيں -     اسلامي جمہوريہ ايران نے جس کو کيميائي ہتھياروں کا سب سے زيادہ نشانہ بنايا گيا ہے اس مہلک ہتھيار کي مکمل نابودي اور اس کي عدم پيداوار  پر ہميشہ زور ديتا رہا ہے - ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے نيويارک ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے سڑ سٹھويں اجلاس کي خصوصي نشست  ميں جو کيميائي ہتھياروں کے کنونشن کو نافذ  العمل بنائے جانے کے لئےمنقعد ہوئي تھي ناوابستہ تحريک کے  ملکوں کي نمائندگي ميں تہران ميں نام کے سربراہي اجلاس ميں کيميائي ہتھياروں سے متعلق پاس ہونےوالي قرارداد کي بنياد پر ترقي پذير ملکوں سے کہا کہ وہ کيميائي ہتھياروں کي نابودي سے متعلق کنونشن کو نافذالعمل بنانے کےلئے ضروري اور سنجيدہ اقدام کريں-      کيميائي ہتھياروں کے عدم استعمال کا معاہدہ سي ڈبليو سي  انيس بانوے ميں بيس سال تک جاري رہنے والے مذاکرات کے بعد منظور ہوا اور اس کے بعد انيس سو ستانوےميں ہالينڈ کے شہر ہيگ ميں اس کنونشن پر عمل درآمد کويقيني بنانے کے لئے او پي سي ڈبليو کے  نام سے اقوام متحدہ کا ايک ذيلي ادارہ بھي قائم کيا گيا -اس وقت ايک سو اٹھاسي ممالک اس معاہدے کے رکن ہيں ليکن بين الاقوامي معاہدے کے باوجود بعض ممالک  نے ابھي تک اس کنونشن پر عمل نہيں کيا ہے –معاہدے کے مطابق ان ملکوں کو انتيس اپريل دوہزار بارہ تک اپنے سبھي کيميائي ہتھياروں کو نابود کردينا تھا ليکن چونکہ امريکا جيسے ممالک اپنے وعدوں کي خلاف ورزي کررہے ہيں اس لئے مذکورہ کنونشن کا مستقبل اور اس کا وجود ہي خطرے ميں پڑ گيا ہے......../169